حلقاتِ علمی
حلقۂ شاہین کے سات حلقے۔ ہر حلقے کا اپنا میدان ہے، اور حدود اِس لیے طے کی گئی ہیں کہ دو ساتھی ایک ہی موضوع پر الگ الگ محنت نہ کریں۔
۰۱
حلقۂ ریاضی و منطق
الف، آلات
۰۲
حلقۂ تاریخِ فلسفہ
ب، تشخیص
۰۳
حلقۂ ردِّ جدیدیت
ب، تشخیص
۰۴
حلقۂ طبیعیات
ب، تشخیص
۰۵
حلقۂ علومِ دینیہ
ج، تعمیر
۰۶
حلقۂ نفسیات
ب، تشخیص، تعمیر کے رخ کے ساتھ
۰۷
حلقۂ نظامِ تعلیم
د، نفاذ
چار درجے
ساتوں حلقے ایک ہی قسم کا کام نہیں کرتے۔ اِن کا کام ایک ترتیب میں ہے:
| الف | آلات | سوچنے، دلیل دینے اور پرکھنے کے اوزار تیار کرنا |
|---|---|---|
| ب | تشخیص | آج کی دنیا کو سمجھنا اور بیماری کی جڑ پہچاننا |
| ج | تعمیر | اسلامی جواب اور نیا علمی ڈھانچہ کھڑا کرنا |
| د | نفاذ | اِس سارے کام کو عملی نظام میں ڈھالنا |
حلقۂ شاہین