حلقۂ ردِّ جدیدیت
آج کی حالت کی تشخیص۔ جدیدیت آئی کہاں سے، اُس نے انسان کی زندگی کے ساتھ کیا کیا، اور خود اُس کے سنجیدہ ترین ناقدین نے، روایت پسندوں نے اور اسلامی روایت نے اُس کے خلاف کیا کہا۔ یہ سب اِس لیے کہ وہ زمین صاف ہو جس پر اصل کام کھڑا کیا جانا ہے۔
دائرہ کار
جدیدیت ایک تاریخی دور کے طور پر، اور ایک تہذیبی حالت کے طور پر: اُس کی پیدائش، اُس کا ڈھانچہ، استعمار کے ذریعے پوری دنیا تک اُس کا پھیلاؤ، اپنے آپ کو سمجھانے کے لیے اُس کے اپنے نظریات، اور ٹیکنالوجی پر اُس کا انجام۔
اور اُس پر تنقید کی تین روایتیں: مغربی، روایت پسند اور اسلامی۔
خارج الدائرہ
- یہ فلسفے کی تاریخ نہیں کہ فلاسفہ ایک ایک کر کے پڑھے جائیں۔ وہ حلقۂ تاریخِ فلسفہ ہے۔
- یہ جدید سائنس کا فنی مواد نہیں۔ وہ حلقۂ طبیعیات ہے۔
- یہ نیا علم الکلام بنانا نہیں۔ وہ حلقۂ علومِ دینیہ ہے۔
پیداوار
«روایت بمقابلہ جدیدیت»، جو ۱۱ اگست ۲۰۲۶ کی نشست میں اِس حلقے کے کام کے طور پر طے ہوا۔
نصاب
تین حصے، جو بیان سے تنقید اور تنقید سے تعمیر کی طرف بڑھتے ہیں۔
حصۂ اوّل۔ جدیدیت کا تعارف، زمانی ترتیب سے۔
| # | موضوع | دور |
|---|---|---|
| ۱.۱ | نشاۃِ ثانیہ، اصلاحِ کلیسا اور تنویر: ذہنِ جدید کی پیدائش | چودھویں تا اٹھارھویں صدی |
| ۱.۲ | تاریخی پس منظر اور ادوار کی تقسیم: ابتدائی، عروج اور آخری جدیدیت | سولھویں صدی کے بعد |
| ۱.۳ | عملِ تجدد اور تصورِ ترقی، یعنی دنیوی نجات کا ایک عقیدہ | اٹھارھویں صدی کے بعد |
| ۱.۴ | فلسفیانہ، سماجی، ثقافتی اور سیاسی انقلابات: معاہدۂ عمرانی، قومی ریاست، سیکولرائزیشن، اور خود مختار فرد | اٹھارھویں تا بیسویں صدی |
| ۱.۵ | سائنسی انقلاب، صنعت کاری اور عالمگیریت | سترھویں تا بیسویں صدی |
| ۱.۶ | استعمار: نوآبادیات، آبادکاری اور استعماریت کا فرق | سولھویں تا بیسویں صدی، اور ساختی طور پر آج تک |
| ۱.۷ | عالمِ اسلام میں جدیدیت اور استعمار: کہیں قبول، کہیں مسلط | اٹھارھویں تا بیسویں صدی |
| ۱.۸ | اِس عہد کو نام دینا: جدیدیت، جدت پسندی اور مابعد جدیدیت | انیسویں تا بیسویں صدی |
| ۱.۹ | ٹیکنالوجی: انسان سے انسانیت چھیننے کا جدید آلہ | بیسویں تا اکیسویں صدی |
حصۂ دوم۔ جدیدیت پر تنقید۔
۲. ۱ مغربی تنقید۔ یہ اِس بات کی شہادت ہے کہ جدیدیت کے بحران خود اُس کے سنجیدہ ترین مفکرین کو دکھائی دے رہے تھے، کسی بیرونی تنقید سے بہت پہلے۔
- رومانوی اور ابتدائی تہذیبی تنقید: روسو
- سماجیاتی تنقید، یعنی عقلیت کاری اور آہنی قفس: ویبر
- ٹیکنالوجی اور مابعد الطبیعیات پر وجودی تنقید: ہائیڈیگر
- عقل و اقتدار پر نسب نامہ اور مابعد ساختیاتی تنقید: فوکو، دریدا
- سیکولر جدید حالت پر سیاسی و الٰہیاتی تنقید: آرینٹ، ٹیلر
- اجتماعیت اور اخلاقِ فضیلت کی جانب سے تنقید: میکنٹائر
- جدید ریاست پر نظریاتی تنقید: التھوسے
- برقی اور نو لبرل جدیدیت پر عصری تنقید: بیونگ چُل ہان
۲. ۲ روایت پسندوں کی تنقید۔ حکمتِ خالدہ کے مقام سے تنقید، جو تیسرے حصے کی طرف پُل ہے۔
- بنیاد رکھنے والی روایت پسند تنقید: گینوں
- اسلامی روایت پسندی اور مابعد الطبیعیات: نصر، عبدالحکیم مراد، حسن اسپائیکر
۲. ۳ اسلامی تنقید۔ یہی حصہ کرنے کا اصل کام
سے سب سے زیادہ قریب ہے۔
- کلاسیکی اسلامی علمی سرمایہ: امام غزالیؒ، شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ
- استعماری عہد کی اصلاح و تجدید: شاہ ولی اللہؒ، علامہ اقبال، اکبر الٰہ آبادی
- سیکولرزم پر عصری اسلامی علمی تنقید: العطاس، ہلاق، طٰہٰ عبدالرحمٰن
- سماجی و سیاسی اسلامی تنقید: علی شریعتی
- بنیادی متن، یعنی قرآنِ حکیم۔ یہ باقی تنقیدی کتب میں سے ایک اور کتاب نہیں، بلکہ وہ معیار ہے جس پر جدیدیت کو پرکھا جاتا ہے۔
حصۂ سوم۔ اصل کام کی طرف رُخ۔
- قرآنی نظریۂ حیات بطور بنیادِ تعمیر: اُس کا نظریۂ علم، تصورِ کائنات، تصورِ انسان اور تصورِ معاشرہ۔
- تنقید سے اصل کام تک: پہلے دونوں حصوں کو یکجا کر کے وہ عملی اور شرعی راستہ متعین کرنا جس کی طرف
کرنے کا اصل کام
میں اشارہ ہے۔
بنیادی کتابیں
Graeber & Wengrow The Dawn of Everything · Lindberg The Beginning of Western Science · Henrich The Weirdest People in the World · The New Age of Empire · Khalid Masud Islam and Modernity · SherAli Tareen Defending Muhammad in Modernity · Guénon The Crisis of the Modern World · al-Attas Islam and Secularism، Prolegomena to the Metaphysics of Islam، The Concept of Education in Islam · Hallaq The Impossible State · قرآنِ حکیم · حدیث اور اسلامی روایتی متون۔
اہم مفکرین
روسو · ویبر · چارلس ٹیلر · آرینٹ · ہائیڈیگر · فوکو · دریدا · میکنٹائر · التھوسے · بیونگ چُل ہان · آرویل · ہکسلے · پوسٹمین · گینوں · سید حسین نصر · عبدالحکیم مراد · حسن اسپائیکر · امام غزالیؒ · شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ · شاہ ولی اللہؒ · علامہ اقبال · اکبر الٰہ آبادی · العطاس · وائل ہلاق · طٰہٰ عبدالرحمٰن · علی شریعتی۔
نشاۃِ ثانیہ سے تعلق
پورا حلقہ کرنے کا اصل کام
کے لیے تشخیص کا میدان ہموار کرنے کو بنایا گیا ہے۔ تیسرا حصہ اِسی لیے رکھا گیا: تنہا تنقید مقصود نہیں۔
حلقۂ شاہین