حلقۂ علومِ دینیہ
علومِ دینیہ خود: اُن کی بنیادیں، کلاسیکی ذخیرہ، اور یہ سوال کہ جدید علم الکلام محض ایک جذباتی نعرہ ہے یا واقعی ایک علمی ضرورت۔ اور آخر میں دو عملی خاکے: ایک یہ کہ آج کے بلند ترین علمی معیار پر اسلامی عقیدے کو کیسے ثابت کیا جائے، اور دوسرا یہ کہ جو بات اُس کے خلاف ہو اُس کا رد کیسے کیا جائے۔
دائرہ کار
علم الکلام کی بنیاد اور تاریخ؛ فلسفے، منطق اور عقیدے سے اُس کا تعلق؛ کلاسیکی متکلمین؛ وہ فلسفیانہ مکاتب جنہوں نے کلام کو بنایا اور جن سے کلام نے ٹکر لی؛ کلاسیکی کتابیں جیسے تہافت اور الرد؛ آج کی تعمیرِ نو کی بحث؛ موجودہ کوششوں کا جائزہ؛ اور دو عملی خاکے، ثبوت کا اور رد کا۔
خارج الدائرہ
اِس حلقے کا موضوع علومِ دینیہ ہیں: عقائد و کلام، اور ۳ ستمبر ۲۰۲۶ کی توسیع کے بعد تفسیر، حدیث، فقہ و اصولِ فقہ اور سیرت بھی۔
اِس سے باہر یہ چیزیں ہیں:
- مغربی فلسفے کی اپنی تاریخ: حلقۂ تاریخِ فلسفہ۔
- سائنس کا تجرباتی مواد: حلقۂ طبیعیات، جو آفاق کا سامان کلام میں دیتا ہے۔
- جدید علامتی منطق بطور مضمون: حلقۂ ریاضی و منطق۔ کلاسیکی منطق یہاں آتی ہے، اور دونوں کے درمیان پُل وہی حلقہ باندھتا ہے۔
- جدید نفسیات: حلقۂ نفسیات۔
- نظامِ تعلیم کی تشکیل: حلقۂ نظامِ تعلیم۔
نئے شامل شدہ میدانوں کی عارضی حدود
*یہ حدود ۳ ستمبر ۲۰۲۶ کو لکھی گئیں۔
- تفسیر: یہ حلقہ تفسیر کو بطور مضمون رکھتا ہے، یعنی اصولِ تفسیر، مکاتب اور مفسرین۔ باقی ہر حلقہ تفسیر کو اپنے میدان کے لیے بطور ذریعہ استعمال کرے گا، جیسا کہ نظام العمل کی دفعہ ۴۔ ۴ کہتی ہے۔ مثال کے طور پر حلقۂ نفسیات نفس سے متعلق آیات پر کام کرے گا، مگر تفسیر کا مضمون اُس کے پاس نہیں ہو گا۔
- حدیث: حدیث کے علوم اِسی حلقے کے پاس ہیں، یعنی اصولِ حدیث، رجال اور نقد۔ حلقۂ نظامِ تعلیم نبوی تعلیم کے طریقے سے بطور مواد استفادہ کرے گا، مالک نہیں ہو گا۔
- فقہ و اصولِ فقہ: فقہی نظریہ یہیں آتا ہے۔ البتہ حکمتِ احکام، یعنی احکام کی علت، ایک الگ میدان ہے جو ابھی کسی حلقے کے پاس نہیں، اور یہ حلقہ اُسے اپنے اندر نہیں لیتا۔
- سیرت: ابھی طے نہیں۔ سیرت ایک ایسا میدان ہے جس کی حلقۂ شاہین کو ضرورت ہے۔ یہ علومِ دینیہ کے اندر آئے گی یا الگ حلقہ بنے گی، اِس پر فیصلہ باقی ہے۔
پیداوار
خاکے کے آخری دو عنوانات دراصل دو دستاویزیں ہیں، ایک ثبوت کا خاکہ اور ایک رد کا خاکہ۔ مگر اِنہیں ابھی شکل اور تاریخ کے ساتھ کام کے طور پر نہیں لکھا گیا۔
نصاب
بارہ عنوانات، ناظمِ حلقہ کی اپنی ترتیب سے:
| # | عنوان |
|---|---|
| ۱ | علم الکلام کی بنیادیں: تاریخی ارتقا، موضوع، اغراض و مقاصد، فکری رجحانات اور علمی جہات |
| ۲ | باہمی نسبت: فلسفہ، منطق، علم العقیدہ اور علم الکلام کے درمیان |
| ۳ | تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ: علم الکلام کے بنیادی مقدمات اور تفصیلی مباحث کا |
| ۴ | کلاسیکی مسلم فلاسفہ و متکلمین: سوانح، مناہج، فکری سفر اور علمی اثر |
| ۵ | اُن فلسفیانہ و منطقی مکاتب کا تنقیدی جائزہ جنہوں نے علم الکلام کو ڈھالا اور جن سے اُس نے معرکہ لیا: اصول، اعتراضات، اہم شخصیات اور اثرات |
| ۶ | اہم کلاسیکی تصانیف کا تجزیاتی مطالعہ، بشمول تہافت الفلاسفہ اور الرد علی المنطقیین |
| ۷ | علم الکلامِ جدید کی تشکیلِ نو: محض ایک جذباتی نعرہ، یا حقیقی علمی ضرورت؟ یعنی کلاسیکی اور جدید کلام کا تقابل |
| ۸ | علم الکلامِ جدید: خصوصیات، منہج، بنیادی مباحث، مخاطب، اصول اور فکری رجحانات |
| ۹ | تشکیلِ نو کی موجودہ کوششوں کا تنقیدی جائزہ: اہلِ علم، بڑی تصانیف، مناہج اور نتائج |
| ۱۰ | اسلام، فلسفہ اور سائنس، جدیدیت کے تناظر میں |
| ۱۱ | ایک عملی خاکہ، تاکہ اسلامی عقائد کو عصرِ حاضر کے بلند ترین علمی معیار پر مدلل ثابت کیا جا سکے |
| ۱۲ | ایک عملی خاکہ، تاکہ اُن جدید نظریات کا مؤثر رد ہو سکے جو اسلامی تعلیمات سے متصادم ہیں یا ہو سکتے ہیں |
آخری دو عنوانات پورے بنچ میں واحد مقام ہیں جہاں فہرستِ مطالعہ نہیں بلکہ ایک حکمتِ عملی کا وعدہ کیا گیا ہے۔
بنیادی کتابیں
عربی: شرح التہذیب ۔ علامہ عبد اللہ بن شمس الدین الیزدی · شرح العقیدۃ الطحاویۃ · الانتباہات المفیدۃ عن الاشتباہات الجدیدۃ ۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ · شرح العقائد النسفیۃ ۔ سعد الدین التفتازانی · الاقتصاد فی الاعتقاد ۔ امام غزالیؒ · شرح الاصول الخمسۃ ۔ قاضی عبد الجبار الہمذانی · المحصل ۔ امام فخر الدین الرازیؒ · المواقف ۔ عضد الدین الایجی · شرح المقاصد ۔ التفتازانی · تہافت الفلاسفہ ۔ امام غزالیؒ · الرد علی المنطقیین ۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ · الملل والنحل ۔ الشہرستانی · الفرق بین الفرق ۔ عبد القاہر البغدادی · کبریٰ الیقینیات الکونیۃ ۔ محمد سعید رمضان البوطی · مناہج الجدل فی القرآن ۔ ظاہر بن عواض الالمعی · دراسات فی علم الکلام الاسلامی ۔ محمد عابد الجابری
اردو: علم الکلام ۔ علامہ شبلی نعمانیؒ · الشبہات حول الاسلام ۔ محمد قطب، اردو ترجمہ اسلام اور جدید ذہن کے شبہات از محمد سلیم کیانی · آسان علم الکلام ۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
انگریزی: The Cambridge Companion to Classical Islamic Theology (ed. Tim Winter) · Tim Winter Islamic Theology · Umar S. al-Ashqar Islamic Creed Series · Majid Fakhry A History of Islamic Philosophy · Richard M. Frank Classical Islamic Theology: The Ash'arites · Frank Griffel Al-Ghazali's Philosophical Theology اور The Formation of Post-Classical Philosophy in Islam · Sabine Schmidtke (ed. ) The Oxford Handbook of Islamic Theology · Goldziher & Lewis Theology and Creed in Sunni Islam · علامہ اقبال تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ · Eric L. Ormsby Islam and the Problem of Evil · Basil Altaie Islam, Science and Religion · Shoaib Ahmed Malik Islam and Evolution · Gai Eaton Islam and the Destiny of Man · S. H. Nasr Islamic Philosophy from its Origin to the Present
اہم مفکرین
امام غزالیؒ · شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ · امام فخر الدین رازیؒ · التفتازانی · الایجی · الشہرستانی · البغدادی · قاضی عبد الجبار · البوطی · الجابری · علامہ شبلی نعمانیؒ · محمد قطب · مولانا خالد سیف اللہ رحمانی · علامہ اقبال · Griffel · Fakhry · Shoaib Ahmed Malik · Basil Altaie۔
کورسز و وسائل
- علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ۔ فلسفہ اور علم الکلام، ایم اے علومِ اسلامیہ، اکائیاں ۱ تا ۹، کورس کوڈ ۲۶۲۸
- Princeton University ۔ Introduction to Islamic Theology
- Leiden University ۔ Modern Islamic Theology
- المذاہب الاسلامیۃ فی علم الکلام ۔ ڈاکٹر حسن خلیل رضا
- City of Knowledge ۔ Ilm ul Kalam and Modern Philosophy
نشاۃِ ثانیہ سے تعلق
تعلق براہِ راست ہے، اور ناظمِ حلقہ نے اُسے کرنے کا اصل کام
سے بعینہٖ نقل کیا ہے: الحاد و مادہ پرستی کا پُرزور ابطال، اور اسلامی عقائد کا مدلل اثبات۔
نصاب کے آخری دو عنوانات اِسی ایک جملے کی عملی صورت ہیں۔
← تمام حلقے
حلقۂ شاہین