حلقۂ طبیعیات
سائنسی فکر کا ماضی، حال اور مستقبل۔ یہ سمجھنا کہ سائنس بنی کیسے، اُس کی فلسفیانہ بنیادیں کیا ہیں، اور آج وہ کیا دعوے کرتی ہے۔ اور اِس سے جدید علم الکلام کے لیے آفاق کی طرف کا سامان تیار کرنا۔
دائرہ کار
سائنس ہے کیا اور سائنسی علم بنتا کیسے ہے؛ مختلف تہذیبوں میں سائنسی فکر کی تاریخ؛ آج کی سائنسی سمجھ اور اُس کے ادارے؛ سائنس پرستی ایک نظریۂ حیات کے طور پر؛ اور آخر میں جدید علم الکلام کی طرف تعمیری قدم۔
خارج الدائرہ
اِس حلقے کا موضوع سائنس خود ہے: وہ بنی کیسے، اُس کی بنیادیں کیا ہیں، اور اُس کے آج کے دعوے کیا ہیں۔
اِس سے باہر یہ چیزیں ہیں:
- مروجہ منطق اور ریاضی کی بنیادیں بطور مضمون: یہ حلقۂ ریاضی و منطق کا کام ہے۔ یہاں اِنہیں صرف اوزار کے طور پر لیا جاتا ہے، موضوع کے طور پر نہیں۔
- جدید علم الکلام کی تعمیر: یہ حلقۂ علومِ دینیہ کا کام ہے۔ یہ حلقہ آفاق کا سامان فراہم کرتا ہے، کلام خود نہیں بناتا۔
- ڈارون کے نفسیاتی نتائج: یہ حلقۂ نفسیات کا کام ہے۔ یہاں ڈارون کو حیاتیات اور فلسفۂ سائنس کے طور پر پڑھا جاتا ہے۔
- مغربی فلسفے کی اپنی ترتیب وار تاریخ: یہ حلقۂ تاریخِ فلسفہ کا کام ہے۔
پیداوار
سب سے بھرپور فہرست اِسی حلقے کی ہے: چار مرحلوں میں ۲۰ سے زیادہ متعین منصوبے۔
سب سے نمایاں: سائنس کی تاریخ کی تعاملی ٹائم لائن۔
نصاب
نصاب دو حصوں پر مشتمل ہے۔ ایک وہ مرحلے جو ایک بار طے ہوتے ہیں، اور دوسرے وہ تحقیقی سلسلے جو اِن کے ساتھ ساتھ مسلسل چلتے رہتے ہیں۔
مرحلۂ اوّل۔ بنیاد: سائنس کی حقیقت
سائنس کی تاریخ میں اُترنے سے پہلے یہ طے ہو جانا چاہیے کہ سائنس ہے کیا۔
- سائنسی فکر کی بنیادیں: سائنس کیا ہے؛ علم کیا ہے؛ مشاہدہ و تجربہ؛ سائنسی طریقِ کار؛ مفروضہ، نظریہ اور قانون۔
- فلسفۂ سائنس کا تعارف: سائنس کن سوالوں کا جواب دے سکتی ہے؛ سائنس اور فلسفے کا فرق؛ سائنس اور سائنس پرستی کا فرق؛ معروضیت اور اُس کی حدود۔
- بنیادی سائنس کا نئے زاویے سے اعادہ: الجبرا، تفاعل، حسابان اور اُن کا باہمی ربط؛ نیوٹن کے قوانین؛ توانائی کی صورتیں۔
کتابیں: ثانوی اور اعلیٰ ثانوی درجے کی درسی کتب · The Science Book · A Short History of Nearly Everything
سرگرمیاں: محاضرات · مذاکرۂ تصورات · سائنسی مظاہرے · مطالعۂ کتب پر گفتگو
مرحلۂ دوم۔ ماضی: علمِ سائنس کا ارتقا
- قدیم سائنس: بین النہرین · مصر · ہند · چین
- یونانی فلسفۂ فطرت: عقلی تحقیق کا آغاز · ریاضی · ہیئت · طب · ارسطو کا فلسفۂ فطرت
- اسلامی سائنسی روایت: تحریکِ ترجمہ · بیت الحکمہ · تجرباتی منہج · ہیئت · بصریات · طب · ریاضی
- یورپی سائنسی انقلاب: نشاۃِ ثانیہ · کوپرنیکسی انقلاب · گلیلیو · کیپلر · نیوٹن
- صنعتی اور جدید سائنس: برقیات · حرحرکیات · کیمیا · حیاتیات · اضافیت · کوانٹم طبیعیات
ساتھ چلنے والے تحقیقی سلسلے: ہیئت، میکانیات، روشنی، برقیات اور نظریۂ ایٹم — ہر ایک کے ارتقا کو الگ لڑی کے طور پر پیچھا کیا جائے۔
کتابیں: Lindberg The Beginnings of Western Science · Science in Medieval Islam · The Story of Science · Boorstin The Discoverers
مرحلۂ سوم۔ حال: عصرِ حاضر میں سائنس
- آج کی سائنسی سمجھ: علمِ کائنات · ارتقائی حیاتیات · جینیات · علمِ اعصاب · مصنوعی ذہانت · موسمیاتی سائنس
- جدید سائنس کے ادارے اور اندازِ کار: سائنسی اجماع · تحقیقی منہج · علمی تحکیم · نتائج کے دہرائے نہ جا سکنے کا بحران · سائنسی ادارے
- سائنس پرستی اور نظریۂ حیاتِ جدید: فطرت پرستی · مادیت · تخفیف پسندی · سائنسی استعمار · الحادِ جدید
- اسلامی نقطۂ نظر: فطرت بطور آیات · سنت اللہ · وحی اور مشاہدہ · سائنس اور ایمان · انسانی علم کی حدود
کتابیں: Kuhn The Structure of Scientific Revolutions · Popper Conjectures and Refutations · Islam and Science
مرحلۂ چہارم۔ مستقبل: تشکیلِ جدید
- جدید علم الکلام کی بنیادیں: عصری فکری چیلنج · فلسفۂ فطرت · نظریۂ علم · الٰہیات و سائنس
- دینی فکر کی تشکیلِ نو: قرآنی نظریۂ حیات · وحدتِ علوم · اسلامی نظریۂ حیات کے اندر سائنس کا مقام
- اُبھرتے ہوئے مسائل: مصنوعی ذہانت · شعور · حیاتی ٹیکنالوجی · تسخیرِ فلک · انسان سے آگے کا نظریہ
کتابیں: علامہ اقبال تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ · al-Attas Islam and Secularism · Nasr Knowledge and the Sacred
بنیادی کتابیں
The Science Book · Bryson A Short History of Nearly Everything · Lindberg The Beginnings of Western Science · Science in Medieval Islam · The Story of Science · The Discoverers · Kuhn The Structure of Scientific Revolutions · Popper Conjectures and Refutations · Islam and Science · علامہ اقبال تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ · al-Attas Islam and Secularism · Knowledge and the Future of Man
اہم مفکرین
ہر مرحلے کا ایک مرکزی مفکر مقرر ہے:
| مرحلہ | مرکزی مفکر |
|---|---|
| اوّل، سائنسی فکر | رچرڈ فائن مین: تجسس اور طریقِ کار |
| دوم، تاریخِ سائنس | جارج صلیبا یا ڈیوڈ لنڈبرگ |
| سوم، فلسفۂ سائنس | تھامس کُہن، اور اُن کے ساتھ کارل پوپر |
| چہارم، تشکیلِ نو | علامہ اقبال، اور اُن کے ساتھ العطاس اور ڈاکٹر اسرار احمدؒ |
نصاب میں اِن کے علاوہ ارسطو، کوپرنیکس، گلیلیو، کیپلر اور نیوٹن بھی آتے ہیں۔
طریقِ کار
حلقے کی نشست میں محاضرہ، مذاکرۂ تصورات، سائنسی مظاہرہ اور کتاب پر گفتگو شامل ہیں۔ ڈھانچہ ایک بار پڑھے جانے والے مرحلوں اور مسلسل چلنے والے تحقیقی سلسلوں پر قائم ہے۔
نشاۃِ ثانیہ سے تعلق
ناظمِ حلقہ کے الفاظ میں: «اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کے وسیع تر تصور کے حوالے سے یہ حلقہ چاہتا ہے کہ قرآنی نظریۂ حیات کی روشنی میں عصری سائنس کو سمجھ کر دینی فکر کی تشکیلِ نو میں حصہ ڈالے۔
چوتھا مرحلہ ہی وہ موڑ ہے جہاں تعمیر شروع ہوتی ہے؛ باقی سارا سلسلہ اُسی کو ممکن بنانے کے لیے ہے۔
آفاق و انفس کے تقاضے میں یہ حلقہ آفاق کی جانب ہے، یعنی بیرونِ ذات کا حصہ۔ باطن کا حصہ، یعنی انفس، حلقۂ نفسیات کے سپرد ہے۔
← تمام حلقے
حلقۂ شاہین