نظام العمل
حلقۂ شاہین کا اپنا نظام العمل: رکنیت، ڈھانچہ، حلقوں کا نظام، اجتماعات، رپورٹ، مشاورت، اشاعت اور مالیات۔ نو دفعات۔
یہ مسودہ ہے۔ حلقۂ شاہین کی توثیق ابھی باقی ہے، جو شق ۵.۷ کی رُو سے درجۂ اوّل کا فیصلہ ہے۔
دفعہ ۱: تعارف و دائرہ کار
۱.۱ حیثیت: یہ دستاویز حلقۂ شاہین کا اپنا نظام العمل ہے اور بذاتِ خود مستقل ہے۔ تنظیمِ اسلامی کا نظام العمل اس کے لیے محض ایک ساختی نمونہ ہے، یعنی اس امر کا نمونہ کہ ایسی دستاویز کس ترتیب سے مرتب کی جاتی ہے۔ وہ کوئی بالادست دستاویز نہیں جس کے تابع حلقۂ شاہین ہو۔ اُس کی متعدد شقیں یہاں غیر متعلق ہیں، اور یہ دستاویز اُس کے مقابلے میں مختصر ہے۔
۱.۲ دائرہ کار: یہ نظام العمل حلقۂ شاہین اور اُس کے حلقوں پر نافذ ہے، خواہ وہ موجودہ سات حلقے ہوں یا آئندہ قائم ہونے والے۔ چونکہ توسیع نئے حلقوں ہی کی صورت میں متوقع ہے، اس لیے یہ دستاویز اُن حلقوں پر بھی نافذ ہوگی جو ابھی قائم نہیں ہوئے۔ دعوتی شعبہ (ADS) اور انتظامی شعبہ (AMS) اِس کے دائرے سے خارج ہیں۔
۱.۳ دیگر شعبہ جات سے تعلق: حلقۂ شاہین تینوں شعبہ جات کے لیے فکری و عملی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ بات یہاں محض وضاحتاً درج ہے، اور اس دستاویز کی رُو سے ADS یا AMS کے بارے میں کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔
دفعہ ۲: رکنیت
۲.۱ درجہ بندی: حلقۂ شاہین بذاتِ خود مرکزی جماعت ہے، یعنی ناظمینِ حلقہ اور دیگر مرکزی رفقاء۔ اِن کے سوا سب تحقیقی شعبے (RDS) کے رفقاء ہیں۔ کسی حلقے کی جماعت کا رکن تحقیقی شعبے کا رفیق شمار ہوگا، حلقۂ شاہین کا نہیں۔
۲.۲ مطلوبہ اوصاف: حلقۂ شاہین کے رکن سے درج ذیل امور مطلوب ہیں:
- تعلقِ مع اللہ
- قرآن سے مستقل ربط
- تواضع، اور تکبر سے اجتناب
- علمی سنجیدگی اور تسلسل
۲.۳ اہلیت — ناظمِ حلقہ
- ملتزم اور پارٹ ۲: ترجیحاً
- ملتزم اور پارٹ ۱: کم از کم
۲.۴ اہلیت — حلقے کے رفقاء (تحقیقی شعبہ)
- انجمن کا رکن یا تنظیم کا رفیق ہو
- نظریے اور فکر سے مکمل ہم آہنگ ہو
- منکسر المزاج، طالبِ علم اور فعال ہو
۲.۵ طریقِ شمولیت: دونوں درجوں کے لیے ایک ہی اصول ہے، یعنی علمی جانچ اندر، اور حتمی اختیار انجمن کے پاس۔
- حلقے کے رفقاء: متعلقہ ناظمِ حلقہ امیدوار کو موضوعاتی علم، طرزِ فکر اور بنیادی علمی استعداد کی بنیاد پر منظور کرتا ہے۔ حتمی فیصلہ سلیم الدین صاحب کریں گے۔
- مرکزی جماعت: موجودہ ناظمین امیدوار کا جائزہ لیتے ہیں۔ حتمی فیصلہ سلیم الدین صاحب کریں گے۔
۲.۶ عہد نامہ: نئے رکن سے ایک مختصر تحریری عہد لیا جائے گا، جس میں حلقے سے وابستگی، رپورٹ کی پابندی، اور اس نظام العمل کی پاسداری شامل ہوگی۔
۲.۷ موسمِ شمولیت: شمولیت کا دروازہ ہر رمضان کے بعد کھولا جائے گا۔ (نشست ۷ جولائی ۲۰۲۶)
۲.۸ تعطل: جو رکن غیر فعال ہو جائے، یا مرکزی جماعت سے الگ ہو، وہ تحقیقی شعبے میں شامل رہے گا اور کام سے خارج نہ ہوگا۔
۲.۹ اخراج: درج ذیل میں سے کوئی ایک بنیاد کافی ہے:
- تنظیم سے معطلی
- اہلِ سنت والجماعت کے اصولی عقائد کے خلاف عمل
- اِسی نظام العمل کی مستقل خلاف ورزی
طریقِ کار تین مراحل پر مشتمل ہے۔ جس کے علم میں یہ بات آئے، وہ پہلے تنہائی میں بات کرے۔ معاملہ وہاں طے نہ ہو تو حلقۂ شاہین کے سامنے رکھا جائے۔ وہاں بھی طے نہ ہو تو اخراج کے لیے سلیم الدین صاحب کی طرف بھیجا جائے۔
۲.۱۰ مطالعاتی نشست میں شرکت: ممکنہ اراکین، نیز وہ حضرات جن کی رائے سے علمی فائدہ متوقع ہو۔ (نشست ۷ جولائی ۲۰۲۶)
۲.۱۱ منفرد اراکین: جو رکن کسی فعال حلقے سے وابستہ نہ ہو:
- وہ ناظمِ حلقہ جس کے حلقے کے رفقاء ابھی مقرر نہ ہوئے ہوں: اُس پر مستقل نصاب اور قرآن سے ربط بدستور لازم ہے، اور ماہانہ رپورٹ بھی پیش کرے گا جس میں یہ درج ہو کہ حلقے کے رفقاء ابھی مقرر نہیں ہوئے۔
- وہ غیر فعال رکن جو تحقیقی شعبے میں ہے: اُسے مطالعاتی نشست میں شرکت کا حق حاصل رہے گا، اور مرکزی جماعت میں واپسی عام طریقِ شمولیت کے مطابق ممکن ہوگی۔
دفعہ ۳: ڈھانچہ
۳.۱ حلقۂ شاہین: مرکزی جماعت، جو ناظمینِ حلقہ پر مشتمل ہے۔
۳.۲ حلقے: ہر حلقہ ایک علمی دائرہ ہے، جس کا ایک ناظم اور اُس کے رفقاء ہوتے ہیں۔ اِس کے سوا کوئی الگ سربراہ نہیں۔ فی الوقت سات حلقے قائم ہیں:
- حلقۂ نظامِ تعلیم
- حلقۂ تاریخِ فلسفہ
- حلقۂ علومِ دینیہ
- حلقۂ طبیعیات
- حلقۂ ردِّ جدیدیت
- حلقۂ نفسیات
- حلقۂ ریاضی و منطق
> ہر حلقے کا ناظم کون ہے، یہ اِس دستاویز میں درج نہیں۔ تقرری الگ سے > عمل میں آتی ہے، اور اُس کے بدلنے پر نظام العمل میں ترمیم درکار نہیں۔
۳.۳ مناصب: نظامتِ حلقہ کے علاوہ مرکزی جماعت میں سات مناصب ہیں، اور ہر رکن اِن میں سے کوئی ایک سنبھالتا ہے:
- ناظمِ متابعت: کاموں کی فہرست، اُن کی پیروی، اور یہ دیکھنا کہ جو طے ہوا وہ ہوا یا نہیں۔ نیز اکابرین کی تذکیری نشستوں کا اہتمام (شق ۵.۴)
- ناظمِ رپورٹ: حلقوں کی رپورٹیں، ماہانہ رپورٹ کی تیاری و پیشکش، اور انجمن کو ارسال
- ناظمِ وسائل: حلقۂ شاہین کے سارے کام کے لیے آلات و ذرائع کی فراہمی اور دیکھ بھال
- ناظمِ اجتماعات: تمام اجتماعات کا انعقاد، اوقات کا تعین، اور اراکین کو یاد دہانی (شق ۵.۵)
- ناظمِ مطالعہ: ہفتہ وار مطالعاتی نشست کا اہتمام اور نظامت (شق ۵.۲)
- ناظمِ نشست: حلقۂ شاہین کے مشترکہ اجتماعات کی نظامت، یعنی ہفتہ وار نشست (بالمشافہ ہو یا آن لائن)، مشاورتی نشست، اور انتظامی اجلاس
- ناظمِ محفوظات: تمام روداد اور فیصلوں کی حفاظت، ترتیب اور فراہمی (شق ۷.۴)
اِن کے علاوہ دو ذمہ داریاں اُنہی اراکین میں سے کسی کے سپرد رہتی ہیں:
- ناظمِ روابط: انجمن اور سلیم الدین صاحب سے رابطے کی واحد سبیل، نیز بیرونی روابط
- ناظمِ اشاعت: آئینۂ انجمن، جرائد میں اشاعت، اور سماجی ذرائعِ ابلاغ
> مناصب متعین ہیں، البتہ ذمہ داران کے نام اِس دستاویز میں درج نہیں۔ تقرری اور > تبدیلی الگ سے عمل میں آتی ہے، اور اُس کے لیے نظام العمل میں ترمیم درکار نہیں۔
۳.۴ سلیم الدین صاحب: انجمن کی قیادت کے نمائندے کی حیثیت سے اُن کے فرائض یہ ہیں:
- تصویب: حلقۂ شاہین کی رپورٹیں وصول کرنا، اور اطمینان کرنا کہ کام انجمن کے نصب العین کے مطابق ہے
- مرکزی جماعت میں شمولیت کا حتمی اختیار
- حلقے کے رفقاء کی شمولیت کا حتمی اختیار
- اخراج کا آخری مرحلہ
دفعہ ۴: نظامِ حلقہ جات
۴.۱ قیام: حلقہ اُسی وقت قائم ہو جاتا ہے جب اُس کا ناظم مقرر ہو جائے۔ رفقاء کی کوئی کم از کم تعداد مقرر نہیں، نہ قیام کے لیے اور نہ برقرار رہنے کے لیے۔
۴.۲ ناظمِ حلقہ کے فرائض
- انعقادِ نشست: نشست بلانا، مطالعے کا تعین، اور تسلسل قائم رکھنا
- رپورٹ: حلقۂ شاہین کو ماہانہ رپورٹ پیش کرنا (شق ۴.۶)
- شمولیت و تربیت: امیدواروں کی جانچ (شق ۲.۵)، اور حلقے کے رفقاء کی تربیت
- پیداوار: حلقے کی متعین علمی پیداوار کے لیے جواب دہ ہونا
۴.۳ ناظمِ حلقہ کے اختیارات: ناظم بذاتِ خود درج ذیل امور طے کر سکتا ہے:
- نصاب: حلقے کی مطالعاتی فہرست
- نظامِ اجتماع: حلقے کا اپنا دن، وقت اور طریقہ، بشرطیکہ اس نظام العمل کی مقررہ حد کے اندر ہو
- پیداوار کی تجویز: حلقے کی علمی پیداوار تجویز کرنا، جس کی توثیق حلقۂ شاہین کرے گا
بذاتِ خود نہیں: کسی غیر فعال رکن کو پروگرام کے کسی دوسرے شعبے میں منتقل کرنا۔ یہ صرف بالادست سے رجوع کے بعد ہوگا۔ *(یہ اخراج سے مختلف ہے۔ اخراج کے لیے شق ۲.۹ کا تین مرحلہ طریقِ کار لاگو ہے۔
۴.۴ قرآن سے ربط: ہر حلقہ اپنے علمی کام کو قرآن سے مربوط رکھنے کا پابند ہے، متن اور تفسیر دونوں کے ساتھ۔ تعداد اور طریقہ ناظمِ حلقہ طے کرے گا، کیونکہ مختلف حلقوں کی نوعیت مختلف ہے۔
۴.۵ مستقل نصاب: مرکزی جماعت کے اراکین کے لیے منتخب نصاب (تفصیلی) اور محاضرات مقرر ہیں، جو حلقے کے کام کے متوازی جاری رہیں گے۔ یہ ہر رکن کی اپنی ذمہ داری ہے، کسی منصب کی نہیں۔ (نشست ۳۰ جون ۲۰۲۶)
۴.۶ رپورٹ: ہر ناظمِ حلقہ ماہانہ رپورٹ پیش کرے گا، جس میں درج ذیل امور شامل ہوں:
- منعقدہ نشستیں
- حاضری
- زیرِ مطالعہ مواد
- حلقے کی پیداوار پر پیش رفت
یہی رپورٹیں ماہانہ رپورٹ کی بنیاد بنیں گی۔
دفعہ ۵: نظامِ اجتماعات
۵.۱ کم از کم ماہانہ تعداد
| اجتماع | ماہانہ کم از کم |
|---|---|
| مشاورتی نشست (مرکزی جماعت) | ۲ |
| حلقے کی نشست (فی حلقہ) | ۴، یعنی ہفتہ وار |
| انتظامی اجلاس | ۲ |
> حلقے کی ہفتہ وار پابندی اُس حلقے پر لاگو ہے جس کے رفقاء مقرر ہو چکے ہوں۔ جس > حلقے کا صرف ناظم ہو، وہ اس شرط کا پابند نہیں۔
۵.۲ مطالعاتی نشست: علامہ اقبال کی تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ پر، پیر کے روز مغرب تا عشاء، آن لائن۔ یہ حلقۂ شاہین کا مشترکہ اجتماع ہے، اور کسی حلقے کی چار نشستوں میں شمار نہ ہوگا۔
۵.۳ دیگر اجتماعات: خصوصی نشست بلحاظِ ضرورت؛ ماہانہ تربیتی نشست، جو پروگرام کے تمام اراکین کے لیے کھلی ہے؛ سہ ماہی شبِ بیداری؛ شش ماہی تجدیدی نصاب، جو اسلام کی نشاۃِ ثانیہ پر ہو گا اور پروگرام کے اراکین کے لیے کھلا ہو گا؛ اور سالانہ عمومی اجتماع۔ (نشست ۲۷ اپریل ۲۰۲۶؛ نشست ۹ جون ۲۰۲۶)
۵.۴ تذکیری نشست: اراکین کی تربیت حلقۂ شاہین کا اپنا منصب نہیں۔ یہ انجمن اور تنظیمِ اسلامی کے اکابرین کے سپرد ہے، جو وقتاً فوقتاً تذکیر پر مبنی نشست رکھتے ہیں۔ حلقۂ شاہین کے ذمے صرف اِن نشستوں کا اہتمام ہے، جو ناظمِ متابعت کے سپرد ہے۔
> اُن پر کوئی ماہانہ پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔ تعداد طے ہو جائے تو شق ۵.۱ میں > شامل کر دی جائے گی۔
۵.۵ انعقاد و تنسیخ
- حلقے کی نشست: متعلقہ ناظمِ حلقہ بلائے گا
- مشترکہ اجتماعات: ناظمِ اجتماعات بلائے گا، اوقات طے کرے گا اور یاد دہانی کرائے گا۔ نشست کی نظامت البتہ اُسی منصب کے سپرد رہے گی جس کا وہ اجتماع ہے: مطالعاتی نشست ناظمِ مطالعہ کی، ہفتہ وار نشست ناظمِ نشست کی، اور تذکیری نشست ناظمِ متابعت کی۔
> ایک منصب سارے مہینے کا نقشہ سامنے رکھتا ہے، تاکہ کوئی اجتماع رہ نہ جائے؛ اور > ہر نشست وہی چلاتا ہے جس کا کام ہے۔ روداد بھی وہی مرتب کرتا ہے (شق ۷.۳)۔
۵.۶ فیصلوں کے لیے شرکت: درجۂ اوّل کے فیصلے تمام اراکین کی مشاورت سے ہوں گے، نہ کہ صرف حاضرین کی رائے سے۔ معمول کے امور کے لیے یہ شرط نہیں۔
۵.۷ درجۂ اوّل کے فیصلے
- اِس نظام العمل میں تبدیلی
- شمولیت اور اخراج
- مناصب پر تقرری (شق ۳.۳)
- سالانہ عمومی اجتماع کی تاریخ کا تعین
- کسی حلقے کا قیام یا اختتام
> یہ فہرست حتمی ہے۔ جو امر اِس میں شامل نہیں، وہ بطورِ ضابطہ درجۂ اوّل کا نہیں؛ > اور فہرست میں اضافہ بذاتِ خود نظام العمل کی تبدیلی ہے، یعنی نکتہ ۱۔
دفعہ ۶: نظامِ رپورٹ
۶.۱ اندرونی رپورٹ: ہر ناظمِ حلقہ ماہانہ رپورٹ حلقۂ شاہین کو پیش کرے گا۔ تفصیل شق ۴.۶ میں درج ہے۔
۶.۲ بیرونی رپورٹ: حلقۂ شاہین ماہانہ رپورٹ سلیم الدین صاحب کو ارسال کرے گا، تاکہ وہ شق ۳.۴ کے مطابق اُس کی تصویب کریں۔
> اس طرح رپورٹ کا سلسلہ مکمل ہے: ناظمِ حلقہ سے حلقۂ شاہین، اور حلقۂ شاہین سے > سلیم الدین صاحب تک۔ تینوں مراحل ماہانہ ہیں۔
۶.۳ ذمہ داری: ماہانہ رپورٹ کی تیاری، پیشکش اور ترسیل ناظمِ رپورٹ کے سپرد ہے (شق ۳.۳)۔
۶.۴ جائزۂ کارکردگی: کارکردگی دو پہلوؤں سے پرکھی جائے گی:
- سرگرمی: منعقدہ نشستیں، شق ۵.۱ کی مقررہ تعداد کے مقابلے میں، نیز حاضری
- پیداوار: ہر حلقے کی متعین علمی پیداوار پر پیش رفت
> پیداوار کا پہلو اُس وقت تک قابلِ جائزہ نہ ہوگا جب تک ہر حلقہ اپنی متعین پیداوار > کا اعلان نہ کرے۔
دفعہ ۷: نظامِ مشاورت
۷.۱ مجلسِ مشاورت: حلقۂ شاہین بذاتِ خود مجلسِ مشاورت ہے۔ اِس کے اندر کوئی الگ مجلس یا کمیٹی نہیں، اور اِس سے باہر کوئی وسیع تر مجلس نہیں۔
> تنظیمِ اسلامی میں ہر درجے پر مجلسِ عاملہ اور مجلسِ مشاورت الگ الگ ہیں۔ یہاں > مرکزی جماعت سات اراکین پر مشتمل ہے، اور اِتنی جماعت کے اندر مجلس بنانا گویا > اکثریت ہی کی مجلس بنانا ہے۔
۷.۲ طریقِ فیصلہ: حلقۂ شاہین کے فیصلے باہمی اتفاق سے ہوں گے۔ جہاں اتفاق نہ ہو سکے، معاملہ سلیم الدین صاحب کی طرف بھیجا جائے گا۔
> اس طرح حلقۂ شاہین کے تمام غیر حل شدہ معاملات، خواہ شمولیت ہو، اخراج ہو یا > اختلافِ رائے، ایک ہی راستے سے طے پاتے ہیں۔
۷.۳ ضبطِ کارروائی: ہر اجتماع کی روداد وہی منصب مرتب کرے گا جس کے سپرد وہ اجتماع ہے: حلقے کی نشست متعلقہ ناظمِ حلقہ، مطالعاتی نشست ناظمِ مطالعہ، مشترکہ اجتماعات ناظمِ نشست، اور تذکیری نشست ناظمِ متابعت۔ ناظمِ اجتماعات اجتماع بلاتا اور یاد دہانی کراتا ہے، روداد مرتب نہیں کرتا۔
ہر روداد میں کم از کم یہ درج ہو: تاریخ، حاضری، زیرِ بحث امور، اور جو فیصلے ہوئے۔
۷.۴ حفاظتِ ریکارڈ: تمام روداد اور فیصلے ناظمِ محفوظات کے سپرد رہیں گے، جو اُنہیں ایک جگہ مرتب رکھے گا اور کسی رکن کے طلب کرنے پر فراہم کرے گا۔
> فیصلہ جب تک لکھا نہ جائے، وہ صرف اُس کی یاد میں رہتا ہے جو نشست میں موجود تھا۔ > اِسی لیے روداد لکھنے والا وہی ہے جس نے نشست چلائی، کہ اُسے معاملہ معلوم ہے؛ اور > سنبھالنے والا ایک ہی ہے، کہ ڈھونڈنے والے کو ایک ہی جگہ جانا پڑے۔
دفعہ ۸: تصنیف و اشاعت
۸.۱ اشاعت کا راستہ: کوئی بھی تحریر شائع ہونے سے پہلے علمی مجلس کے جائزے سے گزرے گی۔ (نشست ۱۴ اپریل ۲۰۲۶)
۸.۲ معیارِ جائزہ: ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے نصب العین سے وفاداری۔ (نشست ۱۸ مئی ۲۰۲۶)
۸.۳ ارسال: ناظمِ اشاعت حلقۂ شاہین کی تحریریں درج ذیل کو ارسال کرے گا:
- داخلی و متعلقہ رسائل، جیسے ماہنامہ آئینۂ انجمن
- بیرونی جرائد، خواہ علمی ہوں یا عمومی
۸.۴ سماجی ذرائعِ ابلاغ: ناظمِ اشاعت کے سپرد، اور انجمن کے شعبۂ اشاعت سے بھی نظرِ ثانی کرائی جائے گی۔
۸.۵ بیرونی روابط: اہلِ علم اور اداروں سے روابط انجمن کی وساطت سے طے ہوں گے۔ (نشست ۲۱ جولائی ۲۰۲۶)
دفعہ ۹: مالیات
۹.۱ رضاکارانہ خدمت: حلقۂ شاہین کے تمام اراکین رضاکار ہیں، اور کسی کو کوئی معاوضہ نہیں۔
۹.۲ اخراجات: منصوبوں کے اخراجات، جیسے اشاعت اور سالانہ عمومی اجتماع کے انتظامات، انجمن کے اپنے وسائل سے پورے کیے جائیں گے۔
۹.۳ انفاق: حلقۂ شاہین اپنے اراکین پر کوئی مالی ذمہ داری عائد نہیں کرتا، اور یہ دستاویز اِس بارے میں کوئی حکم نہیں دیتی۔
۹.۴ بیت المال: حلقۂ شاہین کا اپنا کوئی بیت المال نہیں۔
*تمام دفعات مرتب ہو چکی ہیں۔ اگلا مرحلہ حلقۂ شاہین کی توثیق ہے، جو شق ۵.۷ کی رُو سے درجۂ اوّل کا فیصلہ ہے۔
حلقۂ شاہین